Sonntag, 23. November 2014

تعارفیے از ناصر علی سید۔۔۔سید ظفر ہاشمی

تعارفیے از ناصرعلی سید........سید ظفر ہاشمی
  ................................................................


  فراغتے و کتابے و گوشۂ چمنے
 
ناصر علی سید......پشاور
 
نئے دور کی تمام تر مصروفیات اور سمجھ میں نہ آنے والی مشکلات کے باوجود ہمارا’’ادبی منظر نامہ‘‘جیسا ہے اورجہاں ہے کی بنیاد پراپنے رنگوں کو پھیکا نہیں پڑنے دیتا۔کارِ ادب اور کاروانِ ادب آگے بڑھتا جا رہا ہے۔اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے محاذ سنبھالے ہوئے سارے قلم کار اپنے سرگرمِ عمل ہیں۔کوئی قدرے آہستہ،کوئی قدرے تیزمگر ان تیز گام دوستوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے کارِ ادب کو قدم قدم نہیں،سانس سانس برتا ہے،برت رہے ہیں۔جو بہت سوں کو احساسِ کمتری اور محرومی میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔اور ان میں سے ایک اہم اور معتبر نام حیدر قریشی کا بھی ہے۔یکے بعد دیگرے ان کے قلم سے نکلے ہوئے شہہ پارے کتابی صورت میں ادب کی جھولی کو بھر رہے ہیں۔پھر ان کا ہر پراجیکٹ ایک دستاویز کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔’’عمرِ لا حاصل کا حاصل‘‘میگزین سائز کے۶۱۶صفحات پر مشتمل کلیات ہے،جس میں پانچ شعری اور چھ نثری مجموعوں کو یک جا کر دیا گیا ہے۔شعر ہو،افسانہ ہو،تحقیق ہو،تنقید ہو،کتب و جرائد پر تبصرہ ہو،جدید ادب کے مدیر کے روپ میں سامنے آئیں یاپھر مرتب بن کر اپنے لوگوں کے شعروادب کو ترتیب دیں،ہر حیثیت میں اپنی بھر پور پہچان کروائیں۔
ان کا تازہ شہہ پارہ’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘ابھی موصول ہوا ہے۔حسبِ معمول ایک ضخیم دستاویز۹۹۲صفحات پرمشتمل،جس میں لگ بھگ ڈیڑھ سو مضامین، تجزیے،تبصرے،مکالمے،تحقیق،تنقید،اور کچھ تحریروں کے حوالے سے کچھ لکھاریوں کے محاکمے۔ غرض کیا ہے جو اس زنبیل میں نہیں حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر انٹرنیٹ کی نگری سے احباب سے ادبی مباحث بھی اس مالا میں پروئے ہوئے ہیں۔خاص طور پر جو مکالمہ انٹرنیٹ پر ان کے اور پشاور کی پلوشہ مومند کے مابین ماہیے کے حوالے سے ہوا اور اس بی بی نے کئی اہم سوالات اُٹھائے جو ماہیا کے بارے میں بھی ہیں ،فلمی شاعری کے حوالے سے بھی اور فوک اور نان فوک لٹریچر کے بارے میں بھی۔اور یہ مکالمہ خاصے کی چیز ہے۔
اس اہم دستاویز کا ہر ادب دوست اور کتاب دوست کی ذاتی لائبریری میں ہوناان کے کتب خانہ کو ثروت مند بنا دے گا۔جس کے لئے ارشد خالد مدیر عکاس اسلام آباد سے 0300-5114739

یا
 0333-55155412
پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
  
مطبوعہ
 روزنامہ آج پشاور۔ادب سرائے۔۱۱ دسمبر۲۰۱۴ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہمارا ادبی منظر نامہ
سید ظفر ہاشمی......لکھنؤ
 
عہد ساز شخصیت حیدر قریشی(جرمنی)کی ادبی فتوحات کا لیکھا جوکھا’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘جس میں ان کی 

(۱)حاصلِ مطالعہ
(۲)تاثرات
(۳)مضامین اور تبصرے
 (۴)ستیہ پال آنند کی بودنی نابودنی
(۵)ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور ما بعد جدیدیت
 (۶)ڈاکٹر وزیر آغا ۔عہد ساز شخصیت۔
یہ چھ تنقید،تبصروں اور تاثرات پر مبنی کتابیں ایک ساتھ پیش کی گئی ہیں۔
عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشنز اسلام آباد ،پاکستان کا زبردست کارنامہ،992صفحات پر مشتمل یہ کتاب حیدر قریشی کی تنقیدی بصیرت کا مکمل احاطہ کرتی ہے اور ان پر ایک معتبر اور مستند تنقید نگار ہونے کی مہر ثبت کرتی ہے۔
اس کتاب کی قیمت پندرہ سو روپے ہے اور اسے عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشنز

....1164
 ،گلی نمبر 2 ،بلاک سی،
O-9 نیشنل پولیس فاؤنڈیشن سنٹر,
 لوہی بھیر۔اسلام آباد ،پاکستان سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
  
 (تعارفیہ مطبوعہ دوماہی گلبن لکھنؤ،انڈیا۔شمارہ جنوری تا اپریل ۲۰۱۵ء)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلبن میں ہمارا ادبی منظر نامہ کا تعارف شائع کرنے پر
حیدر قریشی کی ای میل سید ظفر ہاشمی مدیر گلبن کے نام
Mar 14 at 8:35 AM


آپ کی ای میل ملنے کے دن سے گلبن کا انتظار شروع کر دیا تھا۔کل ۱۳ مارچ ۲۰۱۵ کو رسالہ مل گیا ہے۔کتاب کا تعارف دینے کے لیے آپ کا شکریہ۔یہ تعارف اس لنک پر لگا دیا ہے۔ http://hamara-adabi-manzarnama.blogspot.de/
آپ کی محبت کے طور پر بھی عہد ساز شخصیت کے الفاظ میری اوقات سے بہت زیادہ ہیں۔اس پر وضاحت دیتے ہوئے بھی خود نمائی کے تاثر کا ڈر ہے۔میں خدا کے فضل و کرم پرشکر گزار رہتا ہوں اور تکبر کی کسی بھی صورت سے ڈر کربچنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔صرف میرا نام لکھ دینا زیادہ مناسب تھا۔بہر حال آپ کی اس محبت کے لیے بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
حیدر قریشی
 ..........................
سید ظفر ہاشمی کی جوابی ای میل
Mar 16 at 4:44 AM
 
برادرم       سلام مسنون
عہد ساز شخصیت سے آپ کہیں زیادہ ہیں۔آپ جتنی محنت کرنے والے کتنے ہیں؟
کم و بیش تیس سالوں سے آپ کو دیکھ رہا ہوں۔خدا آپ کو سلامت رکھے۔
سید ظفر ہاشمی
............................
 



Keine Kommentare:

Kommentar veröffentlichen