’ہمارا ادبی منظر نامہ‘ کا مطالعہ
ڈاکٹر الطاف یوسف زئی
اسسٹنٹ پروفیسرہزارہ یو نی ورسٹی
اسسٹنٹ پروفیسرہزارہ یو نی ورسٹی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب حیدر قریشی صاحب!
ہمارا ادبی منظر نامہ پڑھا۔بلامبالغہ چند نشستوں میں اتنی ضخیم کتاب مجھ سے کم ہی پڑھی گئی ہے۔اس کتاب میں موضوعاتی تنوع نے مجھے بور نہیں ہونے دیا۔یہ کتاب آپ کے ادبی سفر کا اہم سنگِ میل ہے۔میں اس پر اپنی رائے لکھ چکا ہوں۔ جونہی کمپوزنگ مکمل ہو گی آپ کو اپنا مضمون ای میل کر دوں گا۔
ڈاکٹر الطاف یوسف زئی
05.01.2015
جناب حیدر قریشی صاحب!
ہمارا ادبی منظر نامہ پڑھا۔بلامبالغہ چند نشستوں میں اتنی ضخیم کتاب مجھ سے کم ہی پڑھی گئی ہے۔اس کتاب میں موضوعاتی تنوع نے مجھے بور نہیں ہونے دیا۔یہ کتاب آپ کے ادبی سفر کا اہم سنگِ میل ہے۔میں اس پر اپنی رائے لکھ چکا ہوں۔ جونہی کمپوزنگ مکمل ہو گی آپ کو اپنا مضمون ای میل کر دوں گا۔
ڈاکٹر الطاف یوسف زئی
05.01.2015
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استادِ محترم ڈاکٹر ظہور احمد اعوان سے ایم اے کی کلاس میں ایک کہانی سنی تھی کہ جب سند باد کا جہازی رُخ کے پنجوں بندھ کر ایسے جزیرے میں پہنچا جس کی زمین کا چپہ چپہ لعل ویاقوت ،نیلم و پکھراج سے پٹا پڑا دیکھا تو لالچ کی تیز آنچ اس کے سینے میں بھڑک اُٹھی اور اس نے دوڑ کر اپنی جیبیں بھرنی شروع کی۔ سندباد جب آگے بڑھا تو اور بہتر ہیرے جواہرات دکھائی دئیے۔اس نے فوراًاپنی جیبیں خالی کیں اور ان کو اپنی دانست میں بعد کے بہتر جواہرات سے بھرلیں۔وہ جوں جوں آگے بڑھتا رہایہی صورتِ حال پیش آتی رہی حتیٰ کہ غروبِ آفتاب کے وقت وہ فیصلہ نہ کر سکا کہ وہ کیا لے جائے اور کیا چھوڑے۔حیدر قریشی کی چھے کتب کے یک جلدی مجموعے’ہمارا ادبی منظر نامہ‘ جو بڑی حد تک اُ ن کا ’رزم نامہ ‘ہے کو پڑھتے بلکہ اُن کے صنم کد�ۂ حرف و سُخن میں پھرتے پھرتے میری بھی کچھ یہی حالت ہوگئی۔اردو ادب کی دس گیارہ اصناف میں قلم کاری و گل کاری کرنے والے اس ادیب کے منظرنامے میں کیا نہ ہو گا ،شاید اسی لیے میری جیبیں بھی بھرتی اور خالی ہوتی گئیں۔ایک صدی کا قصہ ہے، میں اردو اصناف کے ہست ونیست اور موت ونمود کی کہانی ہو یا اردو کا پس منظر، تہہ منظر اور پیش منظر ہو یا یورپی ممالک میں اردو شعرو ادب کا جائزہ، اردو نظم کی روایت سے جدیدیت کا سفر ہو یا ’دیوان ریختی ‘ اوراقِ گم گشتہ،اسی طرح میرا جی کی شخصیت اورفن کے حوالے سے اظہارِ خیال ہو یا سجاد ظہیر کی ترقی پسندی کا جائزہ،ہمت رائے شرما کی تحریروں پر رائے زنی ہو یا فیض کی پرورشِ لوح وقلم کی داستان سرائی اور جستہ جستہ مظہر امام کی یاد نگاری سے لے کر جمیل زبیری کے سفر ناموں تک کا احاطہ بھرپور انداز میں کیا ہے۔جوگندر پال، عذرا اصغر کی فسوں کا ری کا فسانہ ہو یا نسائی شاعری کی آن پروین شاکر کی قدر پیمائی،خورشیداقبال،نذیرفتح پوری اور اکبر حمیدی کی شاعری اور ترنم ریاض کی ناول نگاری کا جائزہ،حیدر قریشی کی رائے کی تکذیب مشکل ہو جاتی ہے۔کتاب کے اس حصے میں مابعد جدیدیت پر وزیر آغا، ناصر عباص نئیر اور حیدر قریشی کا مکالمہ بھی اردو ادب کے قاری کے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات کے لیے تازیانے بن جاتے ہیں۔
’تاثرات‘ میں شامل مغرب میں اردو کے مستقبل اور صورت حال پر تین مضامین بھی اپنے اندر بھر پور جانکاری رکھتے ہیں۔ہرمن ہیسے کے ’سدھارتھ‘ایوب خاور کی شاعری اورکثیرالجہت ادیب عبداللہ جاوید کی زندہ جاوید تحریروں پر سیر حاصل گفتگو بھی کسی ادبی غذا سے کم نہیں۔تقریباً ستر، اسّی ادیبوں اور اتنے ہی موضوعات پر اس کتاب میں حیدر قریشی کے تاثرات ملا واحدی کی ’تاثرات‘ کی یاد دلاتی ہیں
حیدر قریشی کی تاثرات میں ایک مضمون جامعات میں اُن پر ہونے والے تحقیقی کام کے حوالے سے ہے جس میں انڈیا اورپاکستان کی یونی ورسٹیوں سے اُن پر براہِ راست ایم ۔اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ہونے والے کام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔کئی صفحات پر مشتمل اس پُر مغز مضمون کے حاصلِ بحث میں لکھتے ہیں:
’’میرے نزدیک ہر ایک کی اپنی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے تاہم جب سارے اچھے کام میں سے زیادہ اچھے کام کا انتخاب کرنا ہو تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ عامر سہیل کا مقالہ اپنی علمی ،ادبی، تحقیقی اوروسعت کی بنیادپر دوسرے مقالات سے آگے دکھائی دے رہا ہے۔جیسے پہلے منزہ یاسمین کا مقالہ بعد میں آنے والوں کے لیے حوالے کی کتاب ثابت ہوا،ویسے ہی عامر سہیل کا مقالہ ایک نئی بنیاد اور نیا حوالہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اگر کسی اور یسرچ سکالر کو میرے کا م پر مزید کام کرنے کا خیال آیا تو منزہ یاسمین ،ڈاکٹر عبدالرب اُستاد،انجم آراء ،رضینہ خان اور ہردے بھانوپرتاب کے مقالات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ،اس کے لیے عامر سہیل کا مقالہ نئی تحقیقی راہوں کی نشاندہی کرتا دکھائی دے گا۔اتنی توجہ اورمحنت ومحبت کے ساتھ مقالہ لکھنے پر عامر سہیل کا شکرگزار ہوں، ان کے نگران ڈاکٹر الطاف یو سف زئی کا ممنون ہوں اور مانسہرہ یو نی ورسٹی کے اربابِ اختیار کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں‘‘(۱)
۔منزہ یاسمین کی اسلامیہ یو نی ورسٹی بھاولپور، ڈاکٹر عبدالرب اُستاد کی گلبرگہ یونی ورسٹی کرناٹک ،انجم آراء کی کلکتہ یونی ورسٹی اور رضینہ خان اور ہردے بھانو پرتاب کی جواہر لال نہرو یونی ورسٹی میں قائم شعبہ جات کی عمر ومنزلت میں کسی کو کلام نہیں مگرعامر سہیل کی ہزارہ یونی ورسٹی شعبہ اردو کی عمر ابھی صرف چار سال ہے عامر سہیل یہاں سے فارغ ہونے والے سولہویں ریسرچ سکالر۔اس کونپل شعبے سے ہو نے والے کام پر حیدر قریشی کی ’شاباش تھپکی‘اس شعبے کے لیے بہتر مستقبل کی نوید ہے۔’ہمارا ادبی منظر نامہ‘ کا اگلا پڑاؤ ’ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور مابعد جدیدیت ‘ہے۔یہاں حیدر قریشی ایک بے باک محقّیق و ناقد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ڈاکٹرگوپی چند سے حیدر قریشی کی ادبی مبازرت کسی سے پو شیدہ نہیں۔آتش و ناسخ کے ادبی رزم گاہوں میں تو خلقِ خداغائبانہ کہنے پر ہی اکتفا کرتی تھی مگر یہاں تو انٹرنیٹ اوپن مکالمے ہیں،ڈاکٹر نارنگ کے ادبی سرقوں کے دفاعی مہم کے خلاف حیدر قریشی کے تابڑتوڑ حملے ہیں،نصرت ظہیر اور پرویزی حیلوں کی روداد ہے۔ماردھاڑسے ادبی حقیقتِ حال کی بحثیں ہیں،جدید ادب کے شمارہ نمبر ۱۲ کی کہانی ہے۔ڈاکٹر گوپی چند کے دوستوں کے ای میلز پر حیدر قریشی کے تاثرات ہیں کہ حملہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔
نارنگ صاحب کے سرقات کے حوالے سے کیا ثابت ہوا؟اس پر کوئی رائے دینے کی بجائے یہ معاملہ ادب کے قارئین پر چھوڑتا ہوں۔قارئین خود سارے قضیہ کا مطالعہ کریں اور خود ایمان داری کے ساتھ فیصلہ کریں۔ایمانداری کی بات یہ ہے کہ حیدر قریشی جیسا نڈر ادیب ہی ایسے معاملہ میں ہاتھ ڈال سکتا تھا۔وہ اپنی سچائی اور ڈٹائی سے پھر مڑتا نہیں ،چاہے انتظار حسین اور جوگندر پال کا موازنہ ہو یاظفر اقبال کی تعریف پر پر پشیمان ہونے والے شمس الرحمن فاروقی کے لیے ’ہورچوپو‘ کا طعنہ، یامراعات دیکھ کر ترقی پسندی کی چادر اُتارپھینکنے والی کشور ناہید کی حق گوئی سے ’پرسونا‘ہٹانا ۔اور تو اورظفر اقبال کے بارے میں ڈاکٹروزیر آغاکی رائے بھی من وعن بیان کردی کہ ظفر اقبال۱۹۸۵ء تک تک آتے آتے ادبی خودکشی کر چکے تھے۔
پڑاؤ کے اگلے حصے میں ’ستیہ پال آنند کی ۔۔بودنی نا بودنی‘ کے نام سے ہومر کی ٹرائے کی طرح کا ایک محاربہ قائم کیا ہے۔یہاں حیدر قریشی کا دو ٹوک انداز ملاحظہ ہو:
’’ستیہ پال آنند کی شاعری جیسی بھی ہے،وہی ان کی شعری پہچان بنے گی اور اسی کی بنیاد پر ان کے اہم یا غیر اہم شاعرہونے کا فیصلہ ہوگا۔ابھی تک جو منظر دکھائی دے رہا ہے اس کے مطابق ستیہ پال اپنے تخلیقی جوہر پر بھروسہ کرتے ہوئے نظمیں کہنے سے زیادہ پبلک ریلیشنگ سے کا م لے کر شہرت کمانے کے شارٹ کٹ اختیارکرتے پائے جاتے ہیں۔وہ اچھی نظمیں لکھنے کی کاوش کرنے سے زیادہ غزل کی مخالفت کرکے مشہور ہوتے ہیں‘‘ (۲)
معروف شاعر احمد فراز کے بارے میں ستیہ پال نے ایک رائے قائم کی ہے کہ وہ ادب سے بے بہرہ خواتین کے جمگھٹے میں بیٹھ کر اسے اپنی ادبی مقبولیت سمجھتے ہیں۔جس پر حیدر قریشی ستیہ پال کو کتاب کے اس حصے میں آڑے ہاتھوں لیتے ہیں:
’’فراز کے مقابلہ میں ایک دوپرسنٹ خواتین کا قرب نصیب ہوا تو غزل کے بے وزن مطبوعہ مجموعے کی شاعرہ کے سرپرست بن گئے۔دوسری طرف ہیمبرگ میں ایک ایسی خاتون کے شعری مجموعہ کی تقریبِ رونمائی کے لیے دوڑے چلے گئے جو سرا سر روایتی غزل کے انداز میں بے وزن شاعری کرتی ہیں۔رات بھر اُن کے مسؤدہ پر اصلاح دیتے رہے اور اگلے دن ہیمبرگ جا کر کتاب کی اشاعت کے بغیر رونمائی کردی۔اسے غائبانہ نماز جنازہ کے انداز کی غائبانہ تقریب رونمائی کہہ سکتے ہیں‘‘(۳)
خواتین سے مراسم کے بارے میں ستیہ پا جبلت سے یوں پردہ اُٹھا تے ہیں:
’’ستیہ پال نے خود بتایا کہ میں فلاں رسالہ کے مدیر کی اہلیہ کو ہر سال عیدی کے طور پر ایک معقول رقم بھیجتا ہوں‘‘ (۴)
اللہ اللہ یہاں حیدری وار دیکھیے:
’’بھائی!رسالے کو سپورٹ کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔سیدھے سیدھے تعاون کرو۔ کوئی عیدی کا بہانہ کرنا ہے تو مدیر کے بچوں کے لیے عیدی بھیجو۔یہ بہنیں، بھانجیاں، بھتیجیاں، بہوئیں اور بیٹیاں بنانے کا کیا ڈرامہ ہے‘‘ (۵)
’ہمارا ادبی منظر نامہ‘ کا آخری پڑاؤ’ڈاکٹر وزیر آغا عہد سازشخصیت ‘ کا ہے۔ جس میں وزیر آغا کی شخصیت، غزلوں، نظموں،انشائیوں اور تنقید نگاری کے ساتھ ساتھ ادبی پرچے ’’اوراق ‘‘ کے بارے میں اپنے تاثرات قائم کیے ہیں۔اوراق ،میں ماہیے کے بارے میں جو ادبی معرکے لڑے ہیں کو بھی زیبِ داستان بنایا ہے ۔آخر میں ڈاکٹر وزیر آغا کے انتقال پر اپنے احساسات کا اظہار یوں کیا ہے:
’’ڈاکٹر وزیر آغا کے پائے کا مفکر دانشور اب دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ اردو انشائیہ کے بانی کی حیثیت سے انھوں نے ایک بڑا ادبی کام کیا۔اردو انشائیہ کے خدوخال کو نمایاں کرنے میں بہت زیادہ محنت سے کام لیااور اس نئی صنف کی شدید ترین بلکہ اخلاقی لحاظ سے بدترین مخالفت کے باوجود اسے اردو میں رائج کردکھایا۔شاعری میں غزل اور نظم دونوں اصناف میں ان کا انتہائی گراں قدر حصہ ہے جدید نظم کے سلسلے میں تو ان کا نام اتنا اہم ہے کہ ان کے مقام کا تعین کرنے کے لیے جدید نظم کے پورے سلسلے کا ازسرِنو مطالعہ کرنا پڑے گا۔‘‘ (۶)
اردو ادب کے دو روشن ستاروں ڈاکٹر وزیر آغااور ڈاکٹر انورسدید کے نام انتساب ۹۹۶ صفحات پر مشتمل اس ادبی منظر نامے میں اردو ادب کے قاری کے لیے وہ جواہر موجود ہیں جن سے سند باد کی طرح جیبیں بھرتا اور اگلے بہتر کے حصول کے لیے خالی کرتا رہے گا۔اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ! ...............................................................
حوالہ جات
۱)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء،ص۵۶۵۲)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء ص۷۹۲
۳)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء ص۷۹۳
۴)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء ص۷۹۳
۵)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء ص۷۹۳
۶)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ءص۹۶۴
...............................................................
Direct Link
Keine Kommentare:
Kommentar veröffentlichen