Sonntag, 23. November 2014

ہمارا ادبی منظر نامہ/مضامین و مباحث

یہاں جتنے مضامین کے لیے جگہ چھوڑی گئی ہے،وہ اس لیے ہے کہ کسی جانب سے بھی جب کوئی علمی مکالمہ یا غیر علمی مجادلہ کی صورت پیدا کی گئی تو یہاں اس کا پورا حوالہ اور دستیاب ہونے کی صورت میں لنک بھی دیا جائے گا اوراس لکھی گئی تحریر کا مکالمہ اور مجادلہ ہر دو صورت میں مناسب جواب بھی دیا جائے گا۔
...................................................................................................... 
ہمارا ادبی منظر نامہ
سرورق ڈیزائن:ارشد خالد
992:صفحات
تنقیدی مضامین کے 6 مجموعے ایک جلد میں
یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں
https://docs.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RWpzQnl5OTRnU1k/edit
 .......................................................................................................
دیگر4 لنکس جہاں یہ کتاب آن لائن دستیاب ہے۔

http://issuu.com/haiderqureshi/docs/hamara_adabi_manzar_nama_by_haider_ 

 https://archive.org/details/HamaraAdabiManzarNamaByHaiderQureshi

http://kuliat-library.blogspot.de/2014/04/blog-post_9214.html 

https://haiderqureshi.wordpress.com/
.................................................................................
 
مضامین و مباحث

ہمارا ادبی منظر نامہ کی اشاعت کے بعد جو مضامین لکھے گئے اور جو مباحث ہوئے انہیں اس مجموعہ میں یک جا کر دیا گیا ہے۔یہ میرے تنقیدی مضامین کا ساتواں مجموعہ ہے اور اسے ’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘کا حصہ اور ضمیمہ شمار کیا جانا چاہیے۔        حیدرقریشی


https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9a3g2VUZ0X3g2Uk0/view?usp=sharing 
..........................................................................

mazmoon 1


mazmoon 2


mazmoon 3


mazmoon 4


mazmoon 5


mazmoon 6


mazmoon 7


mazmoon 8


کالم:نسیم انجم،مکتوب:عباس خان


ہمارا ادبی منظر نامہ
نسیم انجم


علم و ادب کے حوالے سے موجودہ دورکی نابغہ روزگار شخصیات میں سے ایک قد آور شخصیت جناب حیدر قریشی کی بھی ہے تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے جب ان کی 992 صفحات پر مشتمل کتاب بعنوان ’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘ موصول ہوئی۔ مذکورہ کتاب تحقیق و تنقیدی تحریروں سے آراستہ ہے، نامور ادیبوں کی نثری اور شعری تخلیقات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بڑی سچائی ، خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ قلم کاروں کی نگارشات پر خامہ فرسائی کی ہے ۔

حیدر قریشی نے اپنی محنت، لگن اور اپنی تخلیقی و تعمیری صلاحیتوں کی بدولت شعر و ادب کے گلشن میں منفرد اور صدا بہار پودے لگائے اور پھر ان کی نشوونما میں زندگی کے بہت سے سال اور بہت سا وقت دان کیا تب کہیں جاکر گوہر مراد ہاتھ آیا ہے۔

محترم ایک طویل عرصے سے جرمنی میں مقیم ہیں اور (ادب کی بستیاں بسانے میں انھوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ادبی دنیا سے تعلق رکھنے والا ہر شخص حیدر قریشی کے کام اور نام سے واقف ہے، حیدر قریشی کی ادب سے جنون کی حد تک محبت کرنے کے نتیجے میں 27 کتابیں (اوریجنل ورک) شائع ہوچکی ہیں یہ کتابیں شاعری، افسانے، خاکے ، یاد نگاری، سفر نامہ، انشائیہ نگاری اور ماہیا کی تحقیق و تنقید سے سجائی اور سنواری گئی ہیں۔

مصنف نے کالم بھی لکھے ہیں حالات حاضرہ پر لکھے گئے کالموں کے مجموعے اور متفرق تنقیدی مضامین کے 6 مجموعے اشاعت کے مرحلے سے گزرچکے ہیں، محققین و ناقدین نے مصنف کی صلاحیتوں کا اعتراف برملا کیا ہے اور ان کی فن و شخصیت، فکر وفن،ادبی خدمات اور انٹرویوز پر 8 کتابیں گوشے اور یونیورسٹی کی سطح پر ایم فل کے 5مقالات ہند وپاک میں اور پی ایچ ڈی کا مقالہ، سال 2013، گلبرگہ یونیورسٹی،کرناٹک انڈیا میں شائع ہوا شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے علامہ اقبالؒ نے کہا ہے کہ ’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا‘‘

اگر میں زیر مطالعہ اور تحریر کے قالب میں ڈھالنے والی کتاب کو ادب کا انسائیکلو پیڈیا کہہ دوں تو میرے خیال کے مطابق غلط نہیں ہوگا، ہاں اعتراض ضرور ہوسکتا ہے کہ پوری دنیا میں بے شمار قلمکاروتخلیق کار موجود ہیں اور آسمان ادب پر ایسے ایسے درخشندہ ستارے روشن ہیں جن کی آب و تاب آنکھوں کو چندھیادیتی ہے۔

لیکن بات پھر وہ ہی اقربا پروری اور مفاد پرستی کی آجاتی ہے کہ اہل دانش اور اہل قلم محض اپنی جھوٹی انا اور اپنی بڑائی کے احساس کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی روشنی کو اپنے آپ سے اس طرح بچاتے ہیں جس طرح چھوت کی بیماری سے ایک صحت مند انسان اپنے آپ کو دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن سب ایسے نہیں ہیں اچھے اور وسیع النظر حضرات بھی موجود ہیں اور دیے سے دیا جلانے پر یقین رکھتے ہیں۔

’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘ کا انتساب ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر انور سدید کے نام ہے گویا ابتدا بھی ڈاکٹر وزیر آغا سے ہوئی ہے اور میرے خیال کے مطابق اختتامیہ بھی ڈاکٹر وزیر آغا عہد ساز شخصیت کے عنوان سے ہوا ہے جب کہ حیدر قریشی نے اختتامیہ ’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘ میں اپنے افکار وخیالات کی وضاحت کی ہے۔

حیدر قریشی نے ڈاکٹر وزیر آغا کو ایک عہد ساز شخصیت کہا تو بالکل درست کہا کہ سارا زمانہ ان کے علم وکمال کا معترف ہے، ایسا عزت و مرتبہ کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے یقینا وہ اپنی ذات میں اکیڈمی کا درجہ رکھتے تھے، جہاں ادب کے طالب علم ان کی علمیت و آگہی سے استفادہ کرتے، حیدرقریشی کا یہ شعر وزیر آغا کی زندگی اور علمیت وقابلیت کے اعتبار سے بالکل موزوں ہے۔
جو اپنی ذات میں سمٹا ہوا تھا
سمندرکی طرح پھیلا ہوا تھا


حیدر قریشی علمی لحاظ سے ڈاکٹر وزیر آغا کو اپنا استاد اور رہنما سمجھتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ ان کی تنقید اور فکر سے میں نے ادبی رہنمائی حاصل کی، میں افسانے لکھے تو انھوں نے قدم قدم پر مجھے شاباش دی، حوصلہ افزائی کی اور مفید مشورے بھی دیے، یہ ان دنوں کی بات ہے جب 1978 کے آخر میں ’’جدید ادب‘‘ کتابی سلسلے کے اجرا کا پروگرام بنا تو حیدر قریشی اپنے آبائی شہر خانپور سے لاہور آئے جہاں دوستوں کی محبت اور ادبی تعاون نے انھیں حوصلہ بخشا ،مزید کام آسان ڈاکٹر انور سدید کے ذریعے ہوگیا اور انھوں نے ہی ڈاکٹر وزیر آغا سے ملنے اور علمی و فکری تعلق رکھنے کی راہ ہموار کی۔

انھوں نے کوائف اور ان کی شعری و ادبی کارگزاری پر مکمل اور بھرپور طریقے سے مضمون لکھا ہے جسے پڑھ کر قاری کے علم و فکر میں اضافہ ہوتا ہے، ببانگ دہل حیدر قریشی نے بہت سے جعلی قلمکاروں کو بھی بے نقاب کیا ہے یہ یقینا حوصلے کی بات ہے، سچ وہ ہی شخص بول سکتا ہے جو صرف اور صرف اﷲ سے ڈرتا ہے چونکہ ہر کام اﷲ کے حکم سے ہی ہوتا ہے یقینا ایسا شخص صاحب ایمان کہلاتا ہے۔ بہر حال ایک جعلی شاعرہ کا بھی ذکر ہے جو حال ہی میں پاکستان آئی تھیں۔

’’ڈاکٹرگوپی چند نارنگ اور مابعد جدیدیت اس مضمون میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے سرقوں کی جھلک کے حوالے سے شکاگو سے محمد عمر میمن نے بذریعہ ای میلز کے  حیدر قریشی کی جرأت کو اس طرح داد دی ہے کہ آپ کی متعدد تحریریں پڑھ ڈالیں اور آپ کی ہمت کو داد و تحسین کہ آپ ڈٹے ہوئے ہیں جب آدمی کی اپنی غرض وابستہ نہ ہو اور حق گوئی کا عزم بھی ہو تو پھر کام اسی بے باکی سے ہوتا ہے، شمس الرحمن فاروقی ، شمیم حنفی، احمد ہمیش مرحوم نے بھی حیدر قریشی کی سچ کی روشنی میں چمکتی ہوئی تحریروں کو سراہا ہے۔

احمد حسین مجاہد لکھتے ہیں کہ ادھر نارنگ کی دھومیں مچی ہوئی ہیں یہ شرمناک حرکتیں نارنگ صاحب ہی نہیں کرتے بلکہ اور بھی کئی صاحبان انگریزی ادب سے بہت کچھ ترجمہ کرکے اپنے نام سے پیش کررہے ہیں، نارنگ صاحب تو اپنے عظیم سرقے پر ایوارڈ بھی وصول کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ مضامین اور کتابوں پر تبصرہ اصل صورت حال سے آگاہ کرتا ہے یعنی جو جیسا نظر آتا ہے وہ ویسا ہرگز نہیں ہے مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آخر جھوٹی شہرت حاصل کرکے دلی خوشی کیوں کر ممکن ہے اور ضمیر کی آواز کا گلا گھوٹنا بھی اتنا آسان نہیں، لیکن اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس دنیا میں سب کچھ ممکن ہے ہر شخص اپنی سوچ کے مطابق اپنا کام کر ڈالتا ہے۔

ادبی منظر نامے میں پڑھنے کو بہت کچھ ہے، معلومات، فہم و ادراک کے خزانے کی شکل میں موجود ہیں۔ سوچتی رہی کہاں سے پڑھوں اورکہاں ختم کروں؟لیکن کوئی بھی تحریر چھوڑنا ناممکن تھا کہ پوری کتاب ہی قابل مطالعہ ہے۔ ’’آج کی جدید اردو نظم‘‘ کے حوالے سے بڑی اچھی نظمیں پڑھنے کو ملیں، ادا جعفری کی نظم پڑھی

مرے بچے 
 مجھےجب  دیکھنا چاہو
تو بس اپنی طرف دیکھو
تمہارے لب پہ جو حرف صداقت ہے
یہی میں ہوں
 تمہارے دل میں جو ناز جسارت ہے
یہی میں ہوں
 نگاہوں میں جو اک طرز عبارت ہے یہی میں ہوں
محبت کی طرح میں بھی ہوں، بے پایاں
کبھی ظاہر کبھی پنہاں
 جہاں تم ہو وہاں تک میری خوشبو ہے
 وہاں میں ہوں 

مرے بچے


 ہماراادبی منظر نامہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے ذریعے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور حیدر قریشی نے کوشش بھی کی ہے لیکن بہت سے قلمکاروں، قارئین و ناقدین کو یقینا تشنگی بھی محسوس ہو گی کہ یہ ان کا حق ہے۔ لیکن مصنف اپنی کاوش میں ایک حد تک کامیاب ہو گئے ہیں ایک ہزار صفحات، تھوڑے نہیں، بہت ہوتے ہیں۔
حیدر قریشی نے اردو زبان و ادب کے چند مسائل ’’اوراق گم گشتہ، میرا جی شخصیت اور فن، ’’سلطان جمیل نسیم‘‘ قصہ قدیم و جدید، ادب میں سرقہ اور جعلسازی، تبصرے، تاثرات، پس دیوار گریہ‘‘ شہناز نبی، دل چھونے والا منظر وضاحت نسیم، ’’نرک‘‘ نسیم انجم، پوپ کہانی کا ’’قضیہ‘‘ فیمینزم، تاریخ و تنقید اسی طرح کے بے شمار مضامین کو شامل کتاب کیا ہے، حیدر قریشی تعریف و توصیف اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔
روزنامہ ایکسپریس کراچی
 اور
اتوار 19 اپريل 2015
  اتوار 26 اپريل 2015
  .......................................................

معروف فکشن رائٹراور ادیب
  عباس خان(ملتان)کا مکتوب بنام حیدر قریشی 
27
؍اگست 2015ء

حضور قریشی صاحب، السلام علیکم
آپ کی عطا و عنایت اور ارشد خالد صاحب کا کرم۔ارسال کردہ آپ کی کتابیں اور عکاس کے شمارے مجھے مل گئے ہیں۔
کھٹی میٹھی یادیں کی دہلیز پار کرکے میں نے ’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘سمندر میں چھلانگ لگادی۔
میرا پہلا تاثر
 
خاموش نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
یا اپنا گریباں چاک،یا دامنِ یزداں چاک 
اقبال
 
اگلا  تاثر
  نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں
فقیہہِ مصلحت بیں سے وہ رندِ بادہ خوار اچھا 
مولانا ظفر علی خان
 
اس سے اگلا تاثر  
ہفت شہرِ عشق را عطارؔ گشت
ماہنوز اندرخم یک کوچہ ایم 
مولانا رومی
فریدالدین عطارؔ عشق کے ساتوں شہر دیکھ آیا ہے۔ہم ابھی تک ایک کوچے کے ایک موڑ تک پہنچ پائے ہیں۔

اور اب آخری تاثر
فروتنیست دلیلِ رسیدگانِ کمال
کہ چوں سواربمنزل رسدپیادہ شود 
 (صائب) 
جس میں انکساری و سادگی ہے،سمجھو کہ کمال پر پہنچ گیا ہے۔دیکھتے نہیں کہ
                                     سوار جب منزل پر پہنچ جاتا ہے تو نیچے اتر آتا ہے۔
 
آپ کی جراتِ اظہار،آپ کی حق گوئی،عالم ادب و دانش کی اس کی وسعت تک گرفت اور پھر اظہار کی یہ سادگی و سلاست اور اندازِ بیان۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیرت مجھے تک رہی ہے۔
حضور !مجھے یقین ہے کہ ہر اہم بات ہمیشہ سادہ الفاظ میں بیان کی جاتی ہے۔آپ نے جو کچھ کہا ہے اہم ترین ہے۔اور اس کے اظہار کا جو قرینہ آپ نے اپنایا ہے، مجھے مسحور کر گیا ہے۔یہ کمال مبارک ہو۔آپ نے خود سے اور پھر اپنے ا س کمال سے روشناس کرایا ہے،شکر گزار ہوں۔


تابع کرم
عباس خان
 ...........................................................
مکتوبکاعکس

 
...........................................................

کشور ناہید کا کالم اور اصل حقائق

حیدر قریشی
 
 Written and Uploaded 4th April 2015
کشور ناہید کا کالم اور اصل حقائق
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ صاحب کے حوالے سے
 
اپنی کتاب ہمارا ادبی منظر نامہ کے اختتامیہ میں ادبی دنیا کی عمومی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کشور ناہید کے بارے میں جوکچھ لکھا تھا،یہاں پیش کررہا ہوں۔
  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  کشور ناہید کی قلمی کاری گری بھی اپنی جگہ کمال کی ہے۔ایک ہی کالم کے تیر سے ایک طرف انتظار حسین کی خبر لیتی ہیں کہ وہ صرف گوپی چند نارنگ کی ہی تعریف و توصیف کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف گوپی چند نارنگ کے سابقہ احسانات فراموش کرکے ان پر بھی کچھ ان الفاظ میں حملہ زن ہوجاتی ہیں

نام پڑ گیا ہر جگہ نارنگ صاحب کا۔مانا وہ بہت گنی آدمی ہیں۔جس کو چاہتے ہیں آج بھی انعام دلوا دیتے ہیں۔دعوت نامہ بھیج دیتے ہیں۔اور جس کو کاٹنا ہو بس اس کی شامت۔
خیر بہت کام کرتے ہیں دنیا بھر میں۔
محبت اور کام کرنے میں ان کی بیوی منورما بھی کسی سے کم نہیں ۔
مگر برا ہو شاہد بھنڈاری جیسے لکھنے والوں کاکہ سب کچھ جو کہیں سے لیا ہے،وہ صاف بتا دیتا ہے کہ یہ مستعار کہاں کہاں سے ہے۔
(کشور ناہید کا کالم’’جستجو کیا ہے‘‘۔مطبوعہ روزنامہ جنگ۔۱۸ نومبر۲۰۱۱ء)
 

جب نارنگ صاحب کے ساتھیوں کے ساتھ گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا،کشور ناہید جیسے لکھنے والے سب اپنے اپنے مفادات کی فصلیں کاٹ رہے تھے۔بلکہ تب کشور ناہید نے ایک کالم میں ناحق طور پر شمس الرحمن فاروقی صاحب کو بھی ان معاملات کا ذمہ دار قرار دے دیا تھا۔تو اب یکایک انہیں نارنگ صاحب کی مستعار تحریروں کا خیال کیسے آگیا؟اس کالم سے پہلے کا کچھ عرصہ چیک کر لیں۔انڈیا کی ادبی تقریبات میں جہاں نارنگ صاحب کا عمل دخل تھا وہاں کشور ناہید کے دورے رُک گئے تھے۔اور اس کالم کے بعد کا ریکارڈ دیکھ لیں کہ وہ دورے پھر بحال ہو گئے تھے۔تو اخباری کالموں کے سہارے زندہ رہنے والے ہمارے ادیبوں،دانشوروں کی ساری حق گوئی و بے باکی کا حدود اربعہ بس اتنے سے مفادات میں گھرا ہواجزیرہ ہے۔‘‘ 
 (ہمارا ادبی منظر نامہ۔ص ۹۷۷۔۹۷۸)
  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کشور ناہید کی حق گوئی و بے باکی کو دعوت ناموں کے مفادات میں گھرا ہوا جزیرہ قرار دیا تھا۔اس کی مزید تصدیق ان کے ایک نئے کالم کے ذریعے ہو رہی ہے۔حالیہ دنوں میں انہیں نہ صرف انڈیا جانے کا موقعہ ملا بلکہ کئی شہروں کی تقریبات میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔چونکہ یہ سب کچھ درحقیقت ڈاکٹر گوپی چند نارنگ صاحب کی نظرِ عنایت کے باعث ہوا تھا،اس لیے انہوں نے حق الخدمت کے طور پر ایک کالم لکھا،جس کا عنوان ہی بڑا دھانسو قسم کا ہے ’’اردو ادب کے مہادیو۔ڈاکٹر گوپی چند نارنگ‘‘۔ یہ کالم روزنامہ جنگ لاہور۔ ۳؍اپریل ۲۰۱۵ء میں شائع ہوا ہے۔اگر کشور ناہید نارنگ صاحب کی جائز و ناجائز تعریف و توصیف تک محدود رہ کراپنا پبلک ریلشننگ کا سلسلہ جاری رکھتیں تو مجھے اس کا نوٹس لینے کی ضرورت نہیں تھی۔آخر ایک دنیا اسی کاروبار میں مصروف ہے اور ہر ایک کے پاس اس کا جوازبھی موجودہے۔لیکن اس کالم میں ان کی بیان کردہ دو باتوں کی وجہ سے مجھے اس کا نوٹس لینا پڑ گیا ہے۔ان کی دو باتیں ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہیں۔
۱۔

کوئی دشمن بھنڈر کی طرح ان کے علمی تجربہ پر وار کرے تووہ ایرے غیرے سے جواب نہیں دلواتے بلکہ خود تحقیق کے ترازو میں تول کر جواب دیتے ہیں
۲۔

حریفوں نے جب بھی انہیں اُڑانے کی کوشش کی وہ خود پس غبار میں گئے

جب کشور ناہید کو گوپی چند نارنگ صاحب انڈیا کے ادبی دورے نہیں کرا رہے تھے،تب ان کے بقول
  برا ہو شاہد بھنڈاری جیسے لکھنے والوں کاکہ سب کچھ جو کہیں سے لیا ہے،وہ صاف بتا دیتا ہے کہ یہ مستعار کہاں کہاں سے ہے۔
۔۔۔اور ایک ہی دعوت نامہ کے نتیجہ میں کئی شہروں کی تقریبات بھگتا کر آئیں تواسی بھنڈرکویوں زد پر رکھ رہی ہیں
کوئی دشمن بھنڈر کی طرح ان کے علمی تجربہ پر وار کرے تووہ ایرے غیرے سے جواب نہیں دلواتے بلکہ خود تحقیق کے ترازو میں تول کر جواب دیتے ہیں ۔
بہتر ہو کہ محترمہ خود بتائیں کہ انہوں نے پہلے جھوٹ لکھا تھا یا اب جھوٹ لکھ رہی ہیں؟
کشور ناہید کے مفاداتی تضاد سے قطع نظر واقعاتی طور پر بھی انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔جب نارنگ صاحب پر ترجمہ بلا حوالہ کا الزام آیا تھا،تب انہوں نے ایروں غیروں سے ہی جواب دلائے تھے اور ابھی تک انہوں نے خود اس الزام کا کوئی مدلل تو کیا غیر مدلل جواب بھی نہیں دیا۔حالانکہ وہ اس موضوع پر بھنڈر کے پہلے مضمون کے جواب میں کچھ لکھ دیتے تو یہ معاملہ شدت اختیار نہ کرتا۔اس سلسلہ میں میری یہ تحریر ریکارڈ پر موجود ہے۔
  ایک بار پھر واضح کر رہا ہوں کہ جہاں تک ترجمہ بلا حوالہ کے الزام کا تعلق ہے،عمران بھنڈر اس معاملہ میں اصل الزام کی حد سے آگے تک نکل گیا تھااور اپنی اوقات سے باہر ہو گیا تھالیکن یہ الزام یکسر غلط ہر گز نہیں تھا۔اگرنارنگ صاحب شروع میں ہی دانشمندانہ طریق سے اس پر ردِ عمل ظاہر کردیتے تو بات پہلے مضمون کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ۔لیکن جیسے جیسے ان کا دفاع کرنے والے غیر ادبی طریق سے حملہ آور ہوتے چلے گئے ویسے ویسے ان کا تماشہ بنتا چلا گیا۔

 مضمون ۔مار دھاڑ سے ادبی حقیقتِ حال تک۔
بحوالہ :ہمارا ادبی منظر نامہ۔ص ۔۷۸۱
نارنگ صاحب نے ترجمہ بلاحوالہ کے الزام کاخود کوئی معقول جواب دینے کی بجائے اپنے ’’ایروں غیروں‘‘سے کام چلانے کی کوشش کی،یوں’’ترجمہ بلا حوالہ‘‘کا الزام اُن کے کارندوں کی مار دھاڑکے ردِ عمل میں سرقہ،چوری اور ادبی ڈاکہ سے موسوم ہوتا چلا گیا۔نقصان ان کا اپنا ہی ہوا۔کشور ناہید کے خوشامدانہ کالم کی غلط بیانی نے ایک بار پھر حقیقت کو ظاہر کر دیا ہے۔اگر نارنگ صاحب نے ترجمہ بلا حوالہ کے الزام کا کوئی معقول جواب کبھی دیا تھا توکشور ناہید پر لازم ہے کہ ان کی اس تحریر کو سامنے لائیں۔نارنگ صاحب کا ایسا کوئی وضاحتی مضمون پیش نہیں کیا جا سکے گا۔
بھنڈر کے بعض حوالہ جات نظر ثانی کا تقاضا ضرور کرتے ہیں،لیکن ان کے پیش کردہ بیشترحوالے فکرمند کرنے والے ہیں۔بھنڈر نے تہذیب،شائستگی اور ادبی سلیقے کے ساتھ اپنا کیس پیش کیا ہوتاتو بعد میں اس کی وہ عبرت ناک حالت نہ ہوتی جو اَب ادب کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ایک مقبول روزنامہ میں پیہم لکھنے کی مشقت کرنے کے باوجوداس کی کوئی ادبی تو کیا صحافیانہ حیثیت بھی نہیں بن سکی۔اس کا یہ انجام نارنگ صاحب کی کسی کرامت کا نتیجہ نہیں بلکہ بھنڈر کی اپنی بدزبانی کا نتیجہ ہے۔مجھے بھنڈر کے غیر مہذب لب و لہجہ سے اختلاف تھا اوراختلاف ہے۔لیکن اس کے باوجود نارنگ صاحب پر ترجمہ بلا حوالہ کا الزام یکسر غلط نہیں ہے۔ تہذیب،شائستگی اور ادبی سلیقے کے ساتھ یہ بات نارنگ صاحب کے نیازمند اور معروف نقادڈاکٹر ناصر عباس نیر نے بھی نہ صرف تسلیم کی ہے بلکہ اسے اپنے تحقیقی مقالہ کا حصہ بنایا ہے۔میں اپنے مضمون ’’مار دھاڑ سے ادبی حقیقتِ حال تک‘‘میں ناصر عباس نیر کا ایک اقتباس انگریزی اور اردو متن کے ساتھ پیش کرچکا ہوں۔یہاں اسی اقتباس کے بعد کی عبارت بطور ثبوت پیش کر رہا ہوں۔اسے کسی مخالف کی نہیں بلکہ گھر کے اندر کی گواہی شمار کیا  جا سکتا ہے ۔


 (ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، ص .  ۳۱
اور
  (Catherine Belsey, Critical Practice, P 4)
   کا اقتباس پہلو بہ پہلو دینے کے بعد ناصر عباس نیر لکھتے ہیں۔
 

یہ مثال اس کتاب سے لی گئی ہے، جسے اردو میں ساختیات اور پس ساختیات کی بائبل کا درجہ دیا گیا ہے۔(۸) ہرچند مصنف نے کتابیات میں ان کتابوں کو ستارے کے نشان سے ممیز کیا ہے اور حاشیے میں لکھا ہے کہ ان کتابوں سے بہ طور خاص استفادہ کیا گیا ہے، مگر مذکورہ مثال کی روشنی میں، یہ استفادہ نہیں راست ترجمہ ہے۔ استفادے اور ترجمے کے مطالب بین ہیں، لہٰذا ان پر مزید روشنی ڈالنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ جن کتابوں سے ترجمہ کیا گیا ہے، ان کا حوالہ اس متن میں موجود نہیں، جو ترجمہ ہے۔ اس طرح ان ترجمہ شدہ حصوں کو مصنف نے اپنے خیالات بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ عمل علمی دیانت داری کے مسلمہ اصولوں سے قطعاً ہم آہنگ نہیں ہے۔
ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، کے بیش تر مندرجات جن کتابوں سے ترجمہ ہیں یا جن کی تسہیل کی گئی ہے، وہ ساختیات اور پس ساختیات کے بنیادی ماخذ نہیں ہیں۔

   
(اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات۔ڈاکٹر ناصر عباس نیر۔ باب ۷۔ ص۲۵۱ ۔)

ڈاکٹر ناصر عباس نیر حوالہ(۸) کے تحت حاشیہ میں لکھتے ہیں
حواشی:۸۔ اس کتاب کے بیش تر مقالات بعض انگریزی کتابوں سے براہ راست ترجمہ ہیں، مثلاً باب اوّل کا پہلا حصہ کیتھرین بیلسی کی مذکورہ کتاب، باب اوّل کا حصہ تنقیدی دبستان اور ساختیات، رامن سیلڈن اور پیٹرو ڈوسن کی کتاب


 Contemporary Literary Theory 
کے صفحات ۳ تا ۶ کا ترجمہ ہیں۔ دوسرے باب کے آخری صفحات جوناتھن کلّر کی کتاب 
Structuralist Poetics
کے صفحات ۶ تا ۷ کا ترجمہ ہیں۔ کتاب ۲ کا پہلاباب "رولاں بارت، پس ساختیات کا پیش رو" کے صفحات ۱۶۱ تا ۱۶۴، جان سٹروک کی کتاب 
Structuralism and Since
کے صفحات ۵۳ تا ۶۰ کا ترجمہ ہیں۔ 
  (اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات از ڈاکٹر ناصر عباس نیر۔باب ۷۔ص ۲۸۳)

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا ایک اور بیان بھی دیکھ لیں۔کیتھرین بیلسی نے آلیتھوسے کے حوالے سے جولکھا ہے۔ انگریزی حوالے کے بعدناصر عباس نیر لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اس طور نئی تھیوری میں آئیڈیالوجی کو
 (i)
فرد کا اختیاری نہیں، لازمی و غیراختیاری معاملہ قرار دیا گیا ہے

 فرد کے حقیقی تجربے سے جوڑا گیا ہے۔ (ii)

 (iii)
 مانوس اور تشکیک سے مبرا ’’سچائی‘‘ سمجھا گیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آئیڈیالوجی زبان کے اندر لکھی ہوئی ہے۔ زبان کو وسیلہ اظہار بناتے ہوئے آئیڈیالوجی فرد کے شعور اور ادراک میں، قطعاً غیر محسوس انداز میں شامل ہو جاتی ہے۔ گوپی چند نارنگ نے آئیڈیالوجی کی اسی تھیوری کو قبول کیا اور اپنی تحریروں میں جابجا اسے اپنے موقف کے طور پر پیش کیا ہے۔ 
 (اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر۔ باب ۷۔ ص۲۷۶)
سو اب بھنڈر کی بدتہذیبی اور بد زبانی کو ایک طرف بھی کر دیں تو ترجمہ بلا حوالہ کاجو الزام نارنگ صاحب پر لگا ہوا ہے،وہ ان کے اپنے گھر کے اندرکی گواہی کے مطابق بھی ختم نہیں ہوتا۔اس لیے مناسب یہی ہے کہ اس بارے میں نارنگ صاحب خود ہی اپنا موقف بیان کر دیں۔ورنہ سب کچھ ادب کی تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے۔تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد جب کوئی دعوت نامہ دینے والا اور دعوت نامہ لینے والانہیں ہوگا،تب دستیاب شواہد اور حقائق کی بنیاد پر وقت خود اپنا فیصلہ سنائے گا۔
کشورناہیدکادوسرابیان بجائے خود کنفیوژن کا شکار ہے۔لکھتی ہیں۔
حریفوں نے جب بھی انہیں اُڑانے کی کوشش کی وہ خود پس غبار میں گئے۔
غالباََ محترمہ یہ فرما رہی ہیں کہ جب بھی کسی نے نارنگ صاحب پر کوئی الزام لگایانارنگ صاحب کا کچھ نہیں بگڑاالبتہ الزام لگانے والے اپنی مخالفت کے غبار میں خود ہی گم ہو کر رہ گئے۔
اگر یہ بیان خود کشور ناہید صاحبہ کی پہلی مخالفت والی بات (’’جستجو کیا ہے‘‘۔مطبوعہ روزنامہ جنگ۔۱۸ نومبر۲۰۱۱ء) کے تناظر میں ہے تو بالکل درست ہے۔وہ ایک دعوت نامہ کی طلب میں نارنگ صاحب کی مخالفت میں جہاں چلی گئی تھیں وہاں سے انہیں غائب ہونا پڑا۔یعنی اپنے ہی غبار میں گم ہو گئیں۔لیکن جن لوگوں نے ترجمہ بلا حوالہ کے مسئلہ کو علمی و ادبی رنگ میں بیان کیا ،اُن میں سے کوئی بھی کسی غبار میں گم نہیں ہوا۔ناصر عباس نیر مطلع ادب پر موجود ہیں۔میں اپنی 992 صفحات کی کتاب ہمارا ادبی منظر نامہ کے ساتھ پورے شواہد اور حقائق کے ساتھ کتابی صورت میں بھی اور انٹرنیٹ پربھی موجود ہوں۔کسی مار دھاڑ کے بغیر علمی وادبی زبان میں مکالمہ کے لیے ہمہ وقت حاضر ہوں۔ (جیسے اب حاضر ہو گیا ہوں)۔البتہ جب سے اس جھگڑے میں نارنگ صاحب کے ’’ایرے غیرے ‘‘ ٹائپ کارندوں نے گرد اُڑائی تھی،تب سے نارنگ صاحب اپنی مجلسی زندگی سے غائب سے ہو کر رہ گئے ہیں۔کینیڈا سے کراچی تک کی بعض تقریبات میں انہیں بار بار ترجمہ بلا حوالہ کے الزام کا سامنا کرنا پڑاتھا،نتیجہ یہ نکلا کہ بے حد احتیاط کے ساتھ منعقد کی جانے والی تقریبات سے بھی نارنگ صاحب غائب ہونے لگے۔اسی پس منظر میں نارنگ صاحب کے عزیز دوست ظفر اقبال نے مزاحیہ انداز سے ان کا کتبہ ان الفاظ میں شائع کیاتھا۔

 
گوپی چند نارنگ
حضرات حیدر قریشی اور عمران شاہد بھنڈرکی طرف سے مغربی مصنفین کی تحریروں سے سرقے کے جھوٹے سچے تابڑ توڑ الزامات کے بعد ایسے دل گرفتہ ہوئے کہ تارک الدنیا ہو گئے۔یارلوگوں نے ڈھونڈ تو نکالااور دوبارہ دنیا داری کی طرف مائل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن جو روگ دل کو لگا بیٹھے تھے آخر جان لیوا ثابت ہوا۔آخری رسوم میں شمولیت کے لیے پاکستان سے ڈاکٹر ناصر عباس نیر سیدھے شمشان گھاٹ پہنچے اور ارتھی کے کنارے کھڑے ہو کر حاضرین کے سامنے اپنا معرکتہ الآراء مضمون ’’مابعدجدیدیت‘‘پڑھا جو سورگباشی کے علاوہ کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔’’خبر نامۂ شب خون‘‘کی طرف سے بھجوائے گئے پیغامِ تعزیت میں کہا گیا کہ ایسی ہستیاں روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔کیونکہ ایک آدمی کے لیے روز روز پیدا ہونا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے ساہتیہ اکیڈمی کا نام تبدیل کرکے نارنگ ساہتیہ اکیڈمی رکھ دیا گیا۔
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اُڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
    ( دال دلیا از ظفر اقبال۔روزنامہ دنیا لاہور۔۲۰؍اگست ۲۰۱۴ء)
صرف یہی نہیں،خود کشور ناہید جس حالیہ ہند یاترا پر گئی تھیں ،
اس دوران ایک تقریب ہندی،اردو ساہتیہ ایوارڈاکیڈمی لکھنؤ کے زیر اہتمام لکھنؤ میں بھی ہوئی تھی
۔ یہ تقریب ڈاکٹر گوپی چند نارنگ صاحب کی ادبی خدمات کے اعتراف میں تھی لیکن اس تقریب میں بھی ڈاکٹر نارنگ صاحب دکھائی نہیں دئیے۔حالانکہ وہاں تو سب ان کے اپنے ہی لوگ تھے۔
سو پس غبار ہوجانے والی بات کہیں اورجا رہی ہے۔رہے نام اللہ کا

کشور ناہید کاکالم’’جستجو کیا ہے؟‘‘دراصل انتظار حسین کی خود نوشت پر تبصرہ تھا۔تبصرہ کیا تھا غم و غصہ کا اظہار تھا۔مختلف لوگوں کے نام لے لے کر لکھا کہ انتظار حسین نے ان کا ذکر نہیں کیا یا بہت کم کیا ہے،جبکہ اس مخالفانہ کالم کا اصل غم یہ تھا کہ انتظار حسین نے کشور ناہید کو ایک طرح سے نظر انداز کر دیا تھا۔سو کالم نگاری کی دھونس جما کر جہاں کشور ناہید دعوت نامے حاصل کر لیتی ہیں، وہیں اس انداز میں بھڑاس نکال کراپنا دل کا بوجھ بھی کم کر لیتی ہیں۔
ہند یاترا کے بعدنارنگ صاحب کی شان میں اتنا توصیفی کالم لکھنے کے دوران کشور ناہیدنے بڑے اچھے پیرائے میں نارنگ صاحب سے ایک فرمائش بھی کرڈالی ہے۔یعنی صرف دعوت نامے کافی نہیں ہیں،کچھ اور بھی چاہئے۔

یہ ’’کچھ اور‘‘ کیا ہے؟ کشور ناہید کے اپنے الفاظ میں دیکھ لیں۔
میری جیسی لکھنے والیاں جنہوں نے اپنے سفید بالوں کو کالا کیا ہوا ہے،وہ بھی نارنگ صاحب کی تاریخیت میں اپنا حوالہ چاہتی ہیں کہ ان میں بھی انسانی تجربے کی صدیاں سمٹی ہوئی ہیں۔
کشور ناہید کی اس ’’خود شناسی‘‘ پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں اور نارنگ صاحب اور کشور ناہید کے مشترکہ دوست ظفر اقبال کے ایک جملہ پر بات مکمل کرتا ہوں۔ان کے کالم میں یہ جملہ کسی اور پس منظر کے ساتھ کشور ناہید کے لیے لکھا گیا تھا۔موجودہ پس منظر میں بھی یہ جملہ کشور ناہید کے لیے بے حد مناسب ہے۔
 
 شعروادب میں رعائتی نمبر نہیں ہوتے اورجو
   لوگ یہ نمبر دیتے ہیں وہ خود بھی رعائتی نمبروں کے محتاج ہوتے ہیں۔
  
 ( دال دلیا از ظفر اقبال۔روزنامہ دنیا لاہور۔۶؍مارچ ۲۰۱۵ء)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کشور ناہید کا پہلا کالم’’ جستجو کیا ہے
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
کشور ناہید کا’ نارنگ صاحب کی توصیف میں لکھا گیا‘ زیر بحثکالم 
http://jang.com.pk/jang/apr2015-daily/03-04-2015/col6.htm 
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
لکھنؤ میں ہندی اردو ساہتیہ ایوارڈ کمیٹی کے زیر اہتمام پروفیسر گوپی چند نارنگ کے فن اور شخصیت پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد
نارنگ صاحب بیرون ہند ہوتے تو ان کی غیر موجودگی کو گوارا کیا جا سکتا تھالیکن ملک میں موجود ہوتے ہوئے اپنے اعزاز میں ہونے والی اتنی بڑی تقریب سے خود غیرحاضر ہوناظفر اقبال کے کتبہ کی تصدیق کر رہا ہے۔ 
یوں اچھی بھلی تقریب فن و شخصیت کا سیمینار کی بجائے
 ادبی تعزیتی ریفرینس جیسی تقریب دکھائی دے رہی ہے۔
دائیں سے بائیں
انیس انصاری،اصغر ندیم سید،کشور ناہید،انیس اشفاق اور ڈاکٹر رضا حیدر
....................................................................

تعارفیے از ناصر علی سید۔۔۔سید ظفر ہاشمی

تعارفیے از ناصرعلی سید........سید ظفر ہاشمی
  ................................................................


  فراغتے و کتابے و گوشۂ چمنے
 
ناصر علی سید......پشاور
 
نئے دور کی تمام تر مصروفیات اور سمجھ میں نہ آنے والی مشکلات کے باوجود ہمارا’’ادبی منظر نامہ‘‘جیسا ہے اورجہاں ہے کی بنیاد پراپنے رنگوں کو پھیکا نہیں پڑنے دیتا۔کارِ ادب اور کاروانِ ادب آگے بڑھتا جا رہا ہے۔اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے محاذ سنبھالے ہوئے سارے قلم کار اپنے سرگرمِ عمل ہیں۔کوئی قدرے آہستہ،کوئی قدرے تیزمگر ان تیز گام دوستوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے کارِ ادب کو قدم قدم نہیں،سانس سانس برتا ہے،برت رہے ہیں۔جو بہت سوں کو احساسِ کمتری اور محرومی میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔اور ان میں سے ایک اہم اور معتبر نام حیدر قریشی کا بھی ہے۔یکے بعد دیگرے ان کے قلم سے نکلے ہوئے شہہ پارے کتابی صورت میں ادب کی جھولی کو بھر رہے ہیں۔پھر ان کا ہر پراجیکٹ ایک دستاویز کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔’’عمرِ لا حاصل کا حاصل‘‘میگزین سائز کے۶۱۶صفحات پر مشتمل کلیات ہے،جس میں پانچ شعری اور چھ نثری مجموعوں کو یک جا کر دیا گیا ہے۔شعر ہو،افسانہ ہو،تحقیق ہو،تنقید ہو،کتب و جرائد پر تبصرہ ہو،جدید ادب کے مدیر کے روپ میں سامنے آئیں یاپھر مرتب بن کر اپنے لوگوں کے شعروادب کو ترتیب دیں،ہر حیثیت میں اپنی بھر پور پہچان کروائیں۔
ان کا تازہ شہہ پارہ’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘ابھی موصول ہوا ہے۔حسبِ معمول ایک ضخیم دستاویز۹۹۲صفحات پرمشتمل،جس میں لگ بھگ ڈیڑھ سو مضامین، تجزیے،تبصرے،مکالمے،تحقیق،تنقید،اور کچھ تحریروں کے حوالے سے کچھ لکھاریوں کے محاکمے۔ غرض کیا ہے جو اس زنبیل میں نہیں حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر انٹرنیٹ کی نگری سے احباب سے ادبی مباحث بھی اس مالا میں پروئے ہوئے ہیں۔خاص طور پر جو مکالمہ انٹرنیٹ پر ان کے اور پشاور کی پلوشہ مومند کے مابین ماہیے کے حوالے سے ہوا اور اس بی بی نے کئی اہم سوالات اُٹھائے جو ماہیا کے بارے میں بھی ہیں ،فلمی شاعری کے حوالے سے بھی اور فوک اور نان فوک لٹریچر کے بارے میں بھی۔اور یہ مکالمہ خاصے کی چیز ہے۔
اس اہم دستاویز کا ہر ادب دوست اور کتاب دوست کی ذاتی لائبریری میں ہوناان کے کتب خانہ کو ثروت مند بنا دے گا۔جس کے لئے ارشد خالد مدیر عکاس اسلام آباد سے 0300-5114739

یا
 0333-55155412
پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
  
مطبوعہ
 روزنامہ آج پشاور۔ادب سرائے۔۱۱ دسمبر۲۰۱۴ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہمارا ادبی منظر نامہ
سید ظفر ہاشمی......لکھنؤ
 
عہد ساز شخصیت حیدر قریشی(جرمنی)کی ادبی فتوحات کا لیکھا جوکھا’’ہمارا ادبی منظر نامہ‘‘جس میں ان کی 

(۱)حاصلِ مطالعہ
(۲)تاثرات
(۳)مضامین اور تبصرے
 (۴)ستیہ پال آنند کی بودنی نابودنی
(۵)ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور ما بعد جدیدیت
 (۶)ڈاکٹر وزیر آغا ۔عہد ساز شخصیت۔
یہ چھ تنقید،تبصروں اور تاثرات پر مبنی کتابیں ایک ساتھ پیش کی گئی ہیں۔
عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشنز اسلام آباد ،پاکستان کا زبردست کارنامہ،992صفحات پر مشتمل یہ کتاب حیدر قریشی کی تنقیدی بصیرت کا مکمل احاطہ کرتی ہے اور ان پر ایک معتبر اور مستند تنقید نگار ہونے کی مہر ثبت کرتی ہے۔
اس کتاب کی قیمت پندرہ سو روپے ہے اور اسے عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشنز

....1164
 ،گلی نمبر 2 ،بلاک سی،
O-9 نیشنل پولیس فاؤنڈیشن سنٹر,
 لوہی بھیر۔اسلام آباد ،پاکستان سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
  
 (تعارفیہ مطبوعہ دوماہی گلبن لکھنؤ،انڈیا۔شمارہ جنوری تا اپریل ۲۰۱۵ء)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلبن میں ہمارا ادبی منظر نامہ کا تعارف شائع کرنے پر
حیدر قریشی کی ای میل سید ظفر ہاشمی مدیر گلبن کے نام
Mar 14 at 8:35 AM


آپ کی ای میل ملنے کے دن سے گلبن کا انتظار شروع کر دیا تھا۔کل ۱۳ مارچ ۲۰۱۵ کو رسالہ مل گیا ہے۔کتاب کا تعارف دینے کے لیے آپ کا شکریہ۔یہ تعارف اس لنک پر لگا دیا ہے۔ http://hamara-adabi-manzarnama.blogspot.de/
آپ کی محبت کے طور پر بھی عہد ساز شخصیت کے الفاظ میری اوقات سے بہت زیادہ ہیں۔اس پر وضاحت دیتے ہوئے بھی خود نمائی کے تاثر کا ڈر ہے۔میں خدا کے فضل و کرم پرشکر گزار رہتا ہوں اور تکبر کی کسی بھی صورت سے ڈر کربچنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔صرف میرا نام لکھ دینا زیادہ مناسب تھا۔بہر حال آپ کی اس محبت کے لیے بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔
حیدر قریشی
 ..........................
سید ظفر ہاشمی کی جوابی ای میل
Mar 16 at 4:44 AM
 
برادرم       سلام مسنون
عہد ساز شخصیت سے آپ کہیں زیادہ ہیں۔آپ جتنی محنت کرنے والے کتنے ہیں؟
کم و بیش تیس سالوں سے آپ کو دیکھ رہا ہوں۔خدا آپ کو سلامت رکھے۔
سید ظفر ہاشمی
............................
 



'ہمارا ادبی منظر نامہ‘ کا مطالعہ: ڈاکٹر الطاف یوسف زئی


’ہمارا ادبی منظر نامہ‘ کا مطالعہ
ڈاکٹر الطاف یوسف زئی
اسسٹنٹ پروفیسرہزارہ یو نی ورسٹی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جناب حیدر قریشی صاحب!
ہمارا ادبی منظر نامہ پڑھا۔بلامبالغہ چند نشستوں میں اتنی ضخیم کتاب مجھ سے کم ہی پڑھی گئی ہے۔اس کتاب میں موضوعاتی تنوع نے مجھے بور نہیں ہونے دیا۔یہ کتاب آپ کے ادبی سفر کا اہم سنگِ میل ہے۔میں اس پر اپنی رائے لکھ چکا ہوں۔ جونہی کمپوزنگ مکمل ہو گی آپ کو اپنا مضمون ای میل کر دوں گا۔
ڈاکٹر الطاف یوسف زئی
05.01.2015
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

استادِ محترم ڈاکٹر ظہور احمد اعوان سے ایم اے کی کلاس میں ایک کہانی سنی تھی کہ جب سند باد کا جہازی رُخ کے پنجوں بندھ کر ایسے جزیرے میں پہنچا جس کی زمین کا چپہ چپہ لعل ویاقوت ،نیلم و پکھراج سے پٹا پڑا دیکھا تو لالچ کی تیز آنچ اس کے سینے میں بھڑک اُٹھی اور اس نے دوڑ کر اپنی جیبیں بھرنی شروع کی۔ سندباد جب آگے بڑھا تو اور بہتر ہیرے جواہرات دکھائی دئیے۔اس نے فوراًاپنی جیبیں خالی کیں اور ان کو اپنی دانست میں بعد کے بہتر جواہرات سے بھرلیں۔وہ جوں جوں آگے بڑھتا رہایہی صورتِ حال پیش آتی رہی حتیٰ کہ غروبِ آفتاب کے وقت وہ فیصلہ نہ کر سکا کہ وہ کیا لے جائے اور کیا چھوڑے۔حیدر قریشی کی چھے کتب کے یک جلدی مجموعے’ہمارا ادبی منظر نامہ‘ جو بڑی حد تک اُ ن کا ’رزم نامہ ‘ہے کو پڑھتے بلکہ اُن کے صنم کد�ۂ حرف و سُخن میں پھرتے پھرتے میری بھی کچھ یہی حالت ہوگئی۔اردو ادب کی دس گیارہ اصناف میں قلم کاری و گل کاری کرنے والے اس ادیب کے منظرنامے میں کیا نہ ہو گا ،شاید اسی لیے میری جیبیں بھی بھرتی اور خالی ہوتی گئیں۔ایک صدی کا قصہ ہے، میں اردو اصناف کے ہست ونیست اور موت ونمود کی کہانی ہو یا اردو کا پس منظر، تہہ منظر اور پیش منظر ہو یا یورپی ممالک میں اردو شعرو ادب کا جائزہ، اردو نظم کی روایت سے جدیدیت کا سفر ہو یا ’دیوان ریختی ‘ اوراقِ گم گشتہ،اسی طرح میرا جی کی شخصیت اورفن کے حوالے سے اظہارِ خیال ہو یا سجاد ظہیر کی ترقی پسندی کا جائزہ،ہمت رائے شرما کی تحریروں پر رائے زنی ہو یا فیض کی پرورشِ لوح وقلم کی داستان سرائی اور جستہ جستہ مظہر امام کی یاد نگاری سے لے کر جمیل زبیری کے سفر ناموں تک کا احاطہ بھرپور انداز میں کیا ہے۔جوگندر پال، عذرا اصغر کی فسوں کا ری کا فسانہ ہو یا نسائی شاعری کی آن پروین شاکر کی قدر پیمائی،خورشیداقبال،نذیرفتح پوری اور اکبر حمیدی کی شاعری اور ترنم ریاض کی ناول نگاری کا جائزہ،حیدر قریشی کی رائے کی تکذیب مشکل ہو جاتی ہے۔کتاب کے اس حصے میں مابعد جدیدیت پر وزیر آغا، ناصر عباص نئیر اور حیدر قریشی کا مکالمہ بھی اردو ادب کے قاری کے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات کے لیے تازیانے بن جاتے ہیں۔
’تاثرات‘ میں شامل مغرب میں اردو کے مستقبل اور صورت حال پر تین مضامین بھی اپنے اندر بھر پور جانکاری رکھتے ہیں۔ہرمن ہیسے کے ’سدھارتھ‘ایوب خاور کی شاعری اورکثیرالجہت ادیب عبداللہ جاوید کی زندہ جاوید تحریروں پر سیر حاصل گفتگو بھی کسی ادبی غذا سے کم نہیں۔تقریباً ستر، اسّی ادیبوں اور اتنے ہی موضوعات پر اس کتاب میں حیدر قریشی کے تاثرات ملا واحدی کی ’تاثرات‘ کی یاد دلاتی ہیں
حیدر قریشی کی تاثرات میں ایک مضمون جامعات میں اُن پر ہونے والے تحقیقی کام کے حوالے سے ہے جس میں انڈیا اورپاکستان کی یونی ورسٹیوں سے اُن پر براہِ راست ایم ۔اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ہونے والے کام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔کئی صفحات پر مشتمل اس پُر مغز مضمون کے حاصلِ بحث میں لکھتے ہیں:
’’میرے نزدیک ہر ایک کی اپنی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے تاہم جب سارے اچھے کام میں سے زیادہ اچھے کام کا انتخاب کرنا ہو تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ عامر سہیل کا مقالہ اپنی علمی ،ادبی، تحقیقی اوروسعت کی بنیادپر دوسرے مقالات سے آگے دکھائی دے رہا ہے۔جیسے پہلے منزہ یاسمین کا مقالہ بعد میں آنے والوں کے لیے حوالے کی کتاب ثابت ہوا،ویسے ہی عامر سہیل کا مقالہ ایک نئی بنیاد اور نیا حوالہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اگر کسی اور یسرچ سکالر کو میرے کا م پر مزید کام کرنے کا خیال آیا تو منزہ یاسمین ،ڈاکٹر عبدالرب اُستاد،انجم آراء ،رضینہ خان اور ہردے بھانوپرتاب کے مقالات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ،اس کے لیے عامر سہیل کا مقالہ نئی تحقیقی راہوں کی نشاندہی کرتا دکھائی دے گا۔اتنی توجہ اورمحنت ومحبت کے ساتھ مقالہ لکھنے پر عامر سہیل کا شکرگزار ہوں، ان کے نگران ڈاکٹر الطاف یو سف زئی کا ممنون ہوں اور مانسہرہ یو نی ورسٹی کے اربابِ اختیار کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں‘‘(۱)
۔منزہ یاسمین کی اسلامیہ یو نی ورسٹی بھاولپور، ڈاکٹر عبدالرب اُستاد کی گلبرگہ یونی ورسٹی کرناٹک ،انجم آراء کی کلکتہ یونی ورسٹی اور رضینہ خان اور ہردے بھانو پرتاب کی جواہر لال نہرو یونی ورسٹی میں قائم شعبہ جات کی عمر ومنزلت میں کسی کو کلام نہیں مگرعامر سہیل کی ہزارہ یونی ورسٹی شعبہ اردو کی عمر ابھی صرف چار سال ہے عامر سہیل یہاں سے فارغ ہونے والے سولہویں ریسرچ سکالر۔اس کونپل شعبے سے ہو نے والے کام پر حیدر قریشی کی ’شاباش تھپکی‘اس شعبے کے لیے بہتر مستقبل کی نوید ہے۔’ہمارا ادبی منظر نامہ‘ کا اگلا پڑاؤ ’ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور مابعد جدیدیت ‘ہے۔یہاں حیدر قریشی ایک بے باک محقّیق و ناقد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ڈاکٹرگوپی چند سے حیدر قریشی کی ادبی مبازرت کسی سے پو شیدہ نہیں۔آتش و ناسخ کے ادبی رزم گاہوں میں تو خلقِ خداغائبانہ کہنے پر ہی اکتفا کرتی تھی مگر یہاں تو انٹرنیٹ اوپن مکالمے ہیں،ڈاکٹر نارنگ کے ادبی سرقوں کے دفاعی مہم کے خلاف حیدر قریشی کے تابڑتوڑ حملے ہیں،نصرت ظہیر اور پرویزی حیلوں کی روداد ہے۔ماردھاڑسے ادبی حقیقتِ حال کی بحثیں ہیں،جدید ادب کے شمارہ نمبر ۱۲ کی کہانی ہے۔ڈاکٹر گوپی چند کے دوستوں کے ای میلز پر حیدر قریشی کے تاثرات ہیں کہ حملہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔
نارنگ صاحب کے سرقات کے حوالے سے کیا ثابت ہوا؟اس پر کوئی رائے دینے کی بجائے یہ معاملہ ادب کے قارئین پر چھوڑتا ہوں۔قارئین خود سارے قضیہ کا مطالعہ کریں اور خود ایمان داری کے ساتھ فیصلہ کریں۔ایمانداری کی بات یہ ہے کہ حیدر قریشی جیسا نڈر ادیب ہی ایسے معاملہ میں ہاتھ ڈال سکتا تھا۔وہ اپنی سچائی اور ڈٹائی سے پھر مڑتا نہیں ،چاہے انتظار حسین اور جوگندر پال کا موازنہ ہو یاظفر اقبال کی تعریف پر پر پشیمان ہونے والے شمس الرحمن فاروقی کے لیے ’ہورچوپو‘ کا طعنہ، یامراعات دیکھ کر ترقی پسندی کی چادر اُتارپھینکنے والی کشور ناہید کی حق گوئی سے ’پرسونا‘ہٹانا ۔اور تو اورظفر اقبال کے بارے میں ڈاکٹروزیر آغاکی رائے بھی من وعن بیان کردی کہ ظفر اقبال۱۹۸۵ء تک تک آتے آتے ادبی خودکشی کر چکے تھے۔
پڑاؤ کے اگلے حصے میں ’ستیہ پال آنند کی ۔۔بودنی نا بودنی‘ کے نام سے ہومر کی ٹرائے کی طرح کا ایک محاربہ قائم کیا ہے۔یہاں حیدر قریشی کا دو ٹوک انداز ملاحظہ ہو:
’’ستیہ پال آنند کی شاعری جیسی بھی ہے،وہی ان کی شعری پہچان بنے گی اور اسی کی بنیاد پر ان کے اہم یا غیر اہم شاعرہونے کا فیصلہ ہوگا۔ابھی تک جو منظر دکھائی دے رہا ہے اس کے مطابق ستیہ پال اپنے تخلیقی جوہر پر بھروسہ کرتے ہوئے نظمیں کہنے سے زیادہ پبلک ریلیشنگ سے کا م لے کر شہرت کمانے کے شارٹ کٹ اختیارکرتے پائے جاتے ہیں۔وہ اچھی نظمیں لکھنے کی کاوش کرنے سے زیادہ غزل کی مخالفت کرکے مشہور ہوتے ہیں‘‘ (۲)
معروف شاعر احمد فراز کے بارے میں ستیہ پال نے ایک رائے قائم کی ہے کہ وہ ادب سے بے بہرہ خواتین کے جمگھٹے میں بیٹھ کر اسے اپنی ادبی مقبولیت سمجھتے ہیں۔جس پر حیدر قریشی ستیہ پال کو کتاب کے اس حصے میں آڑے ہاتھوں لیتے ہیں:
’’فراز کے مقابلہ میں ایک دوپرسنٹ خواتین کا قرب نصیب ہوا تو غزل کے بے وزن مطبوعہ مجموعے کی شاعرہ کے سرپرست بن گئے۔دوسری طرف ہیمبرگ میں ایک ایسی خاتون کے شعری مجموعہ کی تقریبِ رونمائی کے لیے دوڑے چلے گئے جو سرا سر روایتی غزل کے انداز میں بے وزن شاعری کرتی ہیں۔رات بھر اُن کے مسؤدہ پر اصلاح دیتے رہے اور اگلے دن ہیمبرگ جا کر کتاب کی اشاعت کے بغیر رونمائی کردی۔اسے غائبانہ نماز جنازہ کے انداز کی غائبانہ تقریب رونمائی کہہ سکتے ہیں‘‘(۳)
خواتین سے مراسم کے بارے میں ستیہ پا جبلت سے یوں پردہ اُٹھا تے ہیں:
’’ستیہ پال نے خود بتایا کہ میں فلاں رسالہ کے مدیر کی اہلیہ کو ہر سال عیدی کے طور پر ایک معقول رقم بھیجتا ہوں‘‘ (۴)
اللہ اللہ یہاں حیدری وار دیکھیے:
’’بھائی!رسالے کو سپورٹ کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔سیدھے سیدھے تعاون کرو۔ کوئی عیدی کا بہانہ کرنا ہے تو مدیر کے بچوں کے لیے عیدی بھیجو۔یہ بہنیں، بھانجیاں، بھتیجیاں، بہوئیں اور بیٹیاں بنانے کا کیا ڈرامہ ہے‘‘ (۵)
’ہمارا ادبی منظر نامہ‘ کا آخری پڑاؤ’ڈاکٹر وزیر آغا عہد سازشخصیت ‘ کا ہے۔ جس میں وزیر آغا کی شخصیت، غزلوں، نظموں،انشائیوں اور تنقید نگاری کے ساتھ ساتھ ادبی پرچے ’’اوراق ‘‘ کے بارے میں اپنے تاثرات قائم کیے ہیں۔اوراق ،میں ماہیے کے بارے میں جو ادبی معرکے لڑے ہیں کو بھی زیبِ داستان بنایا ہے ۔آخر میں ڈاکٹر وزیر آغا کے انتقال پر اپنے احساسات کا اظہار یوں کیا ہے:
’’ڈاکٹر وزیر آغا کے پائے کا مفکر دانشور اب دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ اردو انشائیہ کے بانی کی حیثیت سے انھوں نے ایک بڑا ادبی کام کیا۔اردو انشائیہ کے خدوخال کو نمایاں کرنے میں بہت زیادہ محنت سے کام لیااور اس نئی صنف کی شدید ترین بلکہ اخلاقی لحاظ سے بدترین مخالفت کے باوجود اسے اردو میں رائج کردکھایا۔شاعری میں غزل اور نظم دونوں اصناف میں ان کا انتہائی گراں قدر حصہ ہے جدید نظم کے سلسلے میں تو ان کا نام اتنا اہم ہے کہ ان کے مقام کا تعین کرنے کے لیے جدید نظم کے پورے سلسلے کا ازسرِنو مطالعہ کرنا پڑے گا۔‘‘ (۶)
اردو ادب کے دو روشن ستاروں ڈاکٹر وزیر آغااور ڈاکٹر انورسدید کے نام انتساب ۹۹۶ صفحات پر مشتمل اس ادبی منظر نامے میں اردو ادب کے قاری کے لیے وہ جواہر موجود ہیں جن سے سند باد کی طرح جیبیں بھرتا اور اگلے بہتر کے حصول کے لیے خالی کرتا رہے گا۔اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ!
............................................................... 
 حوالہ جات
۱)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء،ص۵۶۵
۲)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء ص۷۹۲
۳)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء ص۷۹۳
۴)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء ص۷۹۳
۵)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء ص۷۹۳
۶)حیدر قریشی،ہمارا ادبی منظر نامہ،عکاس انٹرنیشنل پبلی کیشن،اسلام آباد،۲۰۱۴ء
ص۹۶۴ 
...............................................................
Direct Link